Sunday, 7 October 2018

کسی نے پوچھا کہ آپ نے پہلی دفعہ *حضور نبی کریم (ص)* کو کیسے دیکھا؟

*حضرت بلال رضی اللہ عنہ* سے ایک دفعہ

کسی نے پوچھا کہ آپ نے پہلی دفعہ *حضور نبی کریم (ص)* کو کیسے دیکھا؟
*بلال رضی اللہ عنہ* فرماتے ہیں کہ میں مکے کے لوگوں کو بہت ہی کم جانتا تھا۔ کیونکہ غلام تھا اور عرب میں غلاموں سے انسانیت سوز سلوک عام تھا، انکی استطاعت سے بڑھ کے ان سے کام لیا جاتا تھا تو مجھے کبھی اتنا وقت ہی نہیں ملتا تھا کہ باہر نکل کے لوگوں سے ملوں، لہذا مجھے حضور پاک یا اسلام یا اس طرح کی کسی چیز کا قطعی علم نہ تھا۔
ایک دفعہ کیا ہوا کہ مجھے سخت بخار نے آ لیا۔ سخت جاڑے کا موسم تھا اور انتہائی ٹھنڈ اور بخار نے مجھے کمزور کر کے رکھ دیا، لہذا میں نے لحاف اوڑھا اور لیٹ گیا۔ ادھر میرا مالک جو یہ دیکھنے آیا کہ میں جَو پیس رہا ہوں یا نہیں، وہ مجھے لحاف اوڑھ کے لیٹا دیکھ کے آگ بگولا ہو گیا۔ اس نے لحاف اتارا اور سزا کے طور پہ میری قمیض بھی اتروا دی اور مجھے کھلے صحن میں دروازے کے پاس بٹھا دیا کہ یہاں بیٹھ کے جَو پیس۔
اب سخت سردی، اوپر سے بخار اور اتنی مشقت والا کام، میں روتا جاتا تھا اور جَو پیستا جاتا تھا۔ کچھ ہی دیر میں دروازے پہ دستک ہوئی، میں نے اندر آنے کی اجازت دی تو ایک نہائت متین اور پر نور چہرے والا شخص اندر داخل ہوا اور پوچھا کہ جوان کیوں روتے ہو؟
جواب میں میں نے کہا کہ جاؤ اپنا کام کرو، تمہیں اس سے کیا میں جس وجہ سے بھی روؤں، یہاں پوچھنے والے بہت ہیں لیکن مداوا کوئی نہیں کرتا۔
قصہ مختصر کہ بلال نے حضور کو کافی سخت جملے کہے۔ *حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم* یہ جملے سن کے چل پڑے، جب چل پڑے تو بلال نے کہا کہ بس؟ میں نہ کہتا تھا کہ پوچھتے سب ہیں مداوا کوئی نہیں کرتا۔۔
حضور یہ سن کر بھی چلتے رہے۔۔ بلال کہتے ہیں کہ دل میں جو ہلکی سی امید جاگی تھی کہ یہ شخص کوئی مدد کرے گا وہ بھی گئی۔ لیکن بلال کو کیا معلوم کہ جس شخص سے اب اسکا واسطہ پڑا ہے وہ رحمت اللعالمین ہے۔
بلال کہتے ہیں کہ کچھ ہی دیر میں وہ شخص واپس آ گیا۔ اس کے ایک ہاتھ میں گرم دودھ کا پیالہ اور دوسرے میں کھجوریں تھیں۔ اس نے وہ کھجوریں اور دودھ مجھے دیا اور کہا کھاؤ پیو اور جا کے سو جاؤ۔
میں نے کہا تو یہ جَو کون پیسے گا؟ نہ پِیسے تو مالک صبح بہت مارے گا۔ اس نے کہا تم سو جاؤ یہ پسے ہوئے مجھ سے لے لینا۔۔
بلال سو گئے اور حضور نے ساری رات ایک اجنبی حبشی غلام کے لئے چکی پیسی۔
صبح بلال کو پسے ہوئے جو دیے اور چلے گئے۔ دوسری رات پھر ایسا ہی ہوا، دودھ اور دوا بلال کو دی اور ساری رات چکی پیسی۔۔ ایسا تین دن مسلسل کرتے رہے جب تک کہ بلال ٹھیک نہ ہو گئے۔۔
یہ تھا وہ تعارف جس کے بطن سے اس لافانی عشق نے جنم لیا کہ آج بھی بلال کو صحابی ءِ رسول بعد میں، عاشقِ رسول پہلے کہا جاتا ہے۔
 اس نے حضور کے وصال کے بعد اذان دینا بند کر دی کیونکہ جب اذان میں ’أَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰہِ‘ تک پہنچتے تو حضور کی یاد میں ہچکیاں بندھ جاتی تھیں اور زار و قطار رونے لگتے تھے۔

ایثار اور اخوت کا یہ جذبہ اتنا طاقتور ہے۔
اللہ ہم سب کو عمل کی توفیق عطا فرمائے۔۔ آمین

*دوستو...!!!* چلتے، چلتے ہمیشہ کی طرح وہ ہی ایک آخری بات عرض کرتا چلوں کہ اگر کبھی کوئی ویڈیو، قول، واقعہ، کہانی یا تحریر وغیرہ اچھی لگا کرئے تو مطالعہ کے بعد مزید تھوڑی سے زحمت فرما کر اپنے دوستوں سے بھی شئیر کر لیا کیجئے، یقین کیجئے کہ اس میں آپ کا بمشکل ایک لمحہ صرف ہو گا لیکن ہو سکتا ہے اس ایک لمحہ کی اٹھائی ہوئی تکلیف سے آپ کی شیئر کردا تحریر ہزاروں لوگوں کے لیے سبق آموز ثابت ہو ....!
*جزاک اللہ خیرا کثیرا۔*



ایک 16 سالہ لڑکے نے اپنی ممی سے کہا کہ " ممی مجھے میرے 18 سالوے کے سالگرہ پر کیا گفٹ دوگی؟

ایک 16 سالہ لڑکے نے



اپنی ممی سے کہا کہ "
ممی مجھے میرے 18 سالوے کے
سالگرہ پر کیا گفٹ
دوگی؟
تو اس لڑکے کی ممی نے
اس سے کہا جب
تیرا 18
سالوا آئے گا تو الماری کے
اوپر دیکھ لینا اس میں
تیرا گفٹ
رہے گا اب بتا دوں گی تو
گفٹ
کا مزہ نہیں آئے گا. .
کچھ دن بعد
وہ لڑکا بیمار
ہو گیا اسے
ممی پاپا ہسپتال
لے کر گئے

جانچ پڑتال کے بعد ڈاکٹر نے
لڑکے کے والدین سے
کہا کہ اس کے دل میں سوراخ
ہے یہ اب 2 ماہ سے
جيادا نہیں جی پائے گا

2 سال بعدلڑکا ٹھیک
ہوکر گھر گیا.
تو اسے پتہ چلا کہ اس کی
 ماں نہیں رہی.
اسے یہ پتہ چلتے ہی اس نے
الماری کھولی اور اس نے دیکھا کہ
الماری میں ایک گفٹ
پڑا تھا. اس نے جلدی سے
وہ گفٹ کھولا
اس گفٹ میں ایک
چٹھی تھی اس چٹی میں
لکھا تھا کہ

* "میرے جگر کے ٹکڑے اگر تو یہ چٹھی پڑھ رہا ہے تو تو بالکل ٹھیک ہوگے تجھے یاد ہے جب تو بیمار ہوا تھا تب ہم تجھے ہسپتال لے کر گئے تھے ڈاکٹر نے کہا کہ تیرے دل میں سوراخ ہے تو اس دن میں بہت روئی اور فیصلہ کیا کہ میرا دل تجھے دوں گی یاد ہے ایک دن تو نے کہا تھا کہ ممی مجھے 18 سال وہ سالگرہ پر کیا دوگی تو بیٹا میں نے تجھے اپنا دل دے دیا اس کو ہمیشہ سنبھال کر رکھنا. ...... مبارک برتھڈے بیٹا '*

یار: ایک ماں اپنے بیٹے کےلیے مر
گئی کیوں کہ اس کا بیٹا جی
سکے. ....

* دنیا میں ماں سے بڑا دل
کسی کا نہیں! *

* ماں کے دل جیسا دنیا میں
کوئی دل نہیں *

* اگر یہ کہانی آپ کو اچھی لگی تو ضرور شیئر کرے. آج ایک میسیج ماں کے نام ... *

* 🌺🌺🌺Beautiful line for Mom ... 🌺🌺🌺 *

* 🌸🌺خوشی  بھی وہ ہے، 🌺🌸 *

* 🌺🌸نصیب  بھی وہ ہے، 🌸🌺 *

* 🌸دنيا کی بھیڑ میں قریب بھی وہ ہے، 🌸 *

* 🌺ان کی  دعا سے چلتی ہے زندگی کیونکہ قسمت بھی وہ ہے، تقدیر بھی وہ ہے نصیب بھی وہ ہے....... 🌺 *

🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺

🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸

🌸M = (Mom)
🌺U = (U Live)
🌸M = (Many)
🌺M = (More)
🌸Y = (Years)

🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺

🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸

* 🌺🌸ماں  کی لمبی عمر کے لئے 7 لوگوں کو آگے بھیجیں.
امید ہے آپ ضرور بھیجیں گے ......، 🌸🌺 *

😰😰😰😰😰😰😰😰😰😰😰😰😰😰😰😰😰😰
I proud My Mom. and your.

​وَ لِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهٖ جَنَّتٰنِ ’’اور جو اپنے رب كے سامنے كھڑے ہونے سے ڈر گيا، اس كے ليے دو جنتيں ہيں۔‘‘

```​كبھی آپ نے غور كيا؟​

​اِس حسابی عمل نے والله مجھے تو اتنا خوفزده كر ديا كه ميں رو پڑا۔​

يه صحيح هے كه آدمی كی عمر الله تعالی كے هاتھ ميں هے، پھر بھی ​يه فرض كر ليں كه آپ 60سال جيتے هيں۔​

ان 60 سال ميں اگر آپ يوميه 8گھنٹے سوتے هيں تو گويا آپ ​20 سال سونے ميں گزار ديتے هيں۔​

اگر آپ يوميه 8 گھنٹے كام كرتے هيں تو يه بھی 20 سال بنتے هيں۔ لہذا ​20 سال کام میں گزارتے ہیں۔​

​15 سال پر محيط آپ كا بچپن هے۔​

اگر آپ دن ميں دو مرتبه كھانا كھاتے هيں تو كم و بيش نصف گھنٹا صرف هوتا هے۔ يوں آپ كی عمر كے ​3 سال كھانے ميں صرف هوتے هيں۔​

كھانے پينے، سونے، كام كرنے اور بچپن كے يه سال ​مجموعی طور پر 58 سال بنتے هيں۔​
​​باقی بچے 2 سال۔​​

​اب سوال يه هے كه آپ عبادت كے ليے كتنا وقت مختص كرتے هيں؟؟؟!​

الله تعالی نے اگر آپ سے روزِ قيامت يه پوچھ ليا كه تم نے اپنی عمر كن كاموں ميں صرف کی تو آپ كا جواب كيا هوگا؟؟

100 فيصد صحيح بات۔
​قرآن مجيد كے كل صفحوں کی تعداد 600 يا 604 سے زائد نهيں۔ ٹھیک هے؟!​
يقين نہیں آيا تو جلدي سے قرآن مجيد كھول كر ديكھيں اور واپس آئيں۔
كيا آپ نے ديكھ ليا كه قرآن مجيد كے كل كتنے صفحے هيں۔
بہت اچھا! اب هم آگے بڑھتے هيں!!

​قرآن مجيد كے 600 صفحے 30 دن پر تقسيم كريں تو كتنے صفحے روز پڑھتے هيں؟​
پريشان مت هوں۔ بہت آسان حساب هے۔ 20=30/600 ​يعنی 20 صفحے روزانه۔​

هم روز 5 نمازيں پڑھتے هيں۔ 20 كو 5 پر تقسيم كريں۔
4=5/20، جی بالكل 4 صفحے۔
​اگر آپ هر نماز كے بعد 4 صفحے پڑھتے هيں تو آپ روز 20 صفحے كی تلاوت كرليتے هيں۔​

يوں ايک ماه ميں آپ كا تکمیلِ قرآن هو جائے گا اور آپ كو پته بھی نہيں چلے گا۔

​تھوڑا انتظار كريں!​
​پيغام ابھی ختم نهيں هوا!​
​ميں اِسے جلد مكمل كرتا هوں!​
​آخر تک پڑھيں!​
​تھوڑا سا باقی هے!​
اگر آپ يه پيغام اپنے تمام دوستوں كو ارسال كريں اور ديگر بہت سے لوگوں كو بھيجيں، وه آپ كی وجه سے ختمِ قرآن كريں تو كيا آپ جانتے هيں، آپ كو كتنا ثواب ملے گا؟!
جب بھی اُن ميں سے كسی كا ختمِ قرآن هوگا، آپ كے اعمال نامے ميں لكھا جائے گا۔ تو اِس سال آپ يه منافع بخش منصوبه كيوں نهيں شروع كرتے۔
​آپ ايسا كيوں نهيں كرتے كه لوگ آپ كی وجه سے قرآن مکمل كريں؟​
​كيا آپ ابھی بھی سوچ رهے هيں؟​

نيکی کی رهنمائی كرنے والا نيکی كرنے والے کی طرح هے۔
جو شخص الله كا قرب چاهتا هے، وه يه پيغام آگے ارسال كرے اور ان شاء الله كئی گنا ثواب پائے۔
آپ كو جب بھی گناه كرنے كا خيال آئے، يه تين آيتيں ذہن ميں لائيں:

​اَلَمْ يَعْلَمْ بِاَنَّ اللّٰهَ يَرٰي ’’كيا اس نے جانا نہیں كه بلاشبہ الله اسے ديكھ رها هے۔‘‘​

​وَ لِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهٖ جَنَّتٰنِ ’’اور جو اپنے رب كے سامنے كھڑے ہونے سے ڈر گيا، اس كے ليے دو جنتيں ہيں۔‘‘​

​وَ مَنْ يَّتَّقِ اللّٰهَ يَجْعَلْ لَّهٗ مَخْرَجًا ’’اور جو اللہ سے ڈرتا ہے تو وہ اس كے ليے (مشكلات سے) نكلنے كا راستہ بنا ديتا ہے۔‘‘​

اگر آپ كو يہ باتيں پسند آئی ہيں تو ان كو آگے ارسال كرنے سے پہلے واپس نہ جائيں۔
كيونكہ نيکی كی رہنمائی كرنے والا نيکی كرنے والے كی طرح ہے۔
​آپ مجھے عزيز ہيں، اس ليے ميں نے آپ كو يہ پيغام بھيجا۔​
آپ بھی اپنے اعزہ كو يہ پيغام بھيجنے ميں بخل سے كام نہ لیں```




صرف چند منٹ نکال کے پڑھ لیں ان شاءاللہ کبھی پاکستان سے گلہ نہیں رہے گا آپکو

*صرف چند منٹ نکال کے پڑھ لیں ان شاءاللہ کبھی پاکستان سے گلہ نہیں رہے گا آپکو*



دُنیا میں دُوعالمی جنگیں ہوچکی ہیں جبکہ تیسری اور فیصلہ کُن جنگ ابھی ہونا باقی ہے جس کے لیے میدان سج رہا ہے۔یہ جنگ مسلمانوں ور یہودیوں کے درمیان ہوگی۔ اگر ہم دیکھیں تو دُنیا میں اس وقت دُو ممالک ہی خالص مذہب کی بنیاد پہ بنے ہیں ایک پاکستان اور ایک اسرائیل۔ پاکستان اسلام کے نظریہ پہ بنا اور اسرائیل کا قیام یہودیت کے نظریے پہ بنا۔
آپ خود غور کریں کہ دُونوں ممالک ایک دوسرے کے بدترین دشمن ہیں۔ یہ بات الگ اور قابلِ غور ہے کہ پاکستان اور اسرائیل کبھی آمنے سامنے نہیں لڑے اسرائیل صرف ایک بار پاکستان سے پِٹ چکا تب سے اب تک انکے دلوں میں پاکستان کا خوف موجود ہے یہ آخری جنگ لڑیں گےآرماگیڈن، میں نے ایک بار کہا تھا کہ آپ خود پاکستان کو اتنا نہیں جانتے جتنا ایک اسرائیلی یا یہودی جانتا ہوگا۔

ان پہ یہ بات رُوزِ رُوشن کی طرح عیاں ہے کہ پاکستان کو اللہ نے وجود کیوں دیا حالانکہ ہماری بدقسمتی اور نااہلی ہے کہ ہم نہیں جانتے بلکہ اُلٹا پاکستان کو نقصان پہنچارہے ہیں۔تو دُنیا میں یہ دُو طاقتیں خاص طور پہ مذاہب کے نظریہ پہ وجود میں آئی ہیں تو کیا یہ ایسے ہی اتفاقاََہوگیا کہ آخری جنگ یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان ہوگی اور یہاں پاکستان اسلام کی طرف سے اسرائیل دجال کی طرف سےتو کون کہتا ہے کہ پاکستان کوعام ملک ہے کون اس کی عظمت سے انکار کرسکتا ہے۔میں آپ کو بتاتا ہوں کہ کیا ہے پاکستان۔پاکستان جس کو بنانے والے بھی چُنے ہوئے، جس کے بننے کادن بھی چُنا ہوا،جس کا جھنڈا چُنا ہوا، جس کے بننے کا مقام بھی چُنا ہوا۔ جس کے بننے کا مقصد چُودہ سُوسال پہلے بتایا جا چکا۔

جس کی بنیاد مضبوط کرنےمیں لاکھوں کلمہ گوں کا خالص خون، جس کی جنگ میں فرشتہ لڑنے کو آئیں، جس کو مٹانے والے خود مٹ جائیں، جس کے بچانے والے جنت میں اعلیٰ مقام کی بشارتیں پائیں ، جس کے ایک حصہ ٹوٹنے پہ اللہ کے پیارے حبیبﷺ افسردہ ہوجائیں،اس کے بننے سے 1400 سال پہلے پیارے نبی ﷺ کو مشرق سے ٹھنڈی ہوائیں آئیں، جس سےاللہ اپنے عظیم گھر کی حفاظت کا کام لیں، دُنیا کی پہلی اسلامی مملکت جسے اللہ ایک بہترین ایٹمی طاقت دے ۔دُنیا کی بہترین خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی، دُنیا کے بہترین کمانڈوز، دُنیا کے کی بہترین افواج، دُنیا کا بہترین جنگی اور دفاعی نظام، دُنیا میں محلِ وقوع ایسا دیا کہ دُنیا رشک کرتی ہے، دریا اسے اللہ نے پہنچاکے دیے، سمندر اسے اللہ نے پہنچا کے دیے۔

پانی جیسی نعمت، سرسبز زمین، دُنیا کی ہر فصل اسے دی، چار کے چار موسم اسے دیے۔ ایسی طاقت دی کہ دُنیا میں پرائے تو پرائے اپنے تک بھی اس کے دشمن ہوتے ہوئے بھی اسکی طرف بُرا قدم بڑھانے کا سوچنے پہ بھی انکی رُوح کانپ جائے۔ یہاں سے ہزاروں میل دُور اللہ کے پاک گھر کی حفاظت کاکام جس سے اللہ لے۔ رُوس جیسی طاقت کو ٹکڑے ٹکڑے کروائے، امریکہ اور اس کی اتحادیوں کو افغانستان میں دُھول چٹوائے۔ایک ارب سے ذیادہ والے ہندوستان کی چیخیں ساری دُنیا کوسنوائے۔ جس کے مجاہدوں کواللہ کے بنیﷺ خوارج سے ٹکرانے کا حکم دیں۔جس کے شہید افضل ترین شہید،جو انڈیا کو ایک کبوتر سے ڈرائے انکے میڈیا سے لیکر آرمی تک کو ذہنی مریض بنائے، جس کاچپڑاسی سے صدر تک سب چُور ایسے میں یہ نہ سمجھ پانا کہ کون ہے جو اس ملک کو چلا رہا ہے ،جس کے ہتھیاروں کا کوئی ثانی نہیں ۔ایسی ایسی ٹیکنالوجی ایسے ایسے ذہین لوگ اور چُنے ہوئے انجنیرزاور سائنسدان جنکی مثال نہیں۔ اسرائیل سے لے کر دُنیا میں بیٹھا ہر یہودی جس کا نام سُن کے کانپے، جسکی افواج ، ٹیکنالوجی، خفیہ اداروں کی دُنیا مثالیں دے۔جو ہر چُوٹ کے بعد نئی طاقت سے اُبھرے، ڈرون سے لیکر ایٹم بم تک کی ٹیکنالوجی جسے اللہ اپنی مدد آپکے دی۔

جس کی حفاظت اللہ کے فرشتے کریں، جسے غزوہ ہند کی فتح کی خوشخبری چُودہ سُوسال پہلے مل جائے، جولڑنے سے پہلے تیسری جنگ عظیم کا فاتح ٹھہرے، جس کا وجود مشرق کے وجود کی ضمانت، جس کا وجود مغرب کے لیے خوف کی علامت، کشمیر سے لیکر فلسطین کےدل کی آواز تمام مسلمانوں کی اُمیدوں کا محور ۔ ایسی طاقت ایسی نعمت سے دُھوکہ ایسی طاقت سے غداری ایسی نعمت کی ناشکری یہ ہمیں زیب نہیں دیتی ۔ اتنا سب گنوانے کے بعد بھی کسی کو یہ شک ہو کہ پاکستان کیاہے؟ پاکستان کیوں بنا؟تو پھر وہ جائے اور یہودیوں سے پُوچھے کہ پاکستان کیا ہے وہ آپکو اور بھی بہتر بتائیں گے کہ کیا ہے پاکستان۔ مانتا ہوں یہاں ظلم ہے، یہاں ناانصافی ہے ، یہاں بےروزگاری ہے، یہاں ناانصافی ہے،یہاں فحاشی ہے، یہاں دھوکہ ہے،یہاں لوڈشیڈنگ ہے، یہاں ہر بُرائی ہے مگر یہ قصور میراآپکا ہے پاکستان کا نہیں،پاکستان کی پاک سرزمین کا نہیں۔ اسے اللہ نے وجود صرف اور صرف اسی لیے ہی دیا ہے کہ اسی پاکستان نے دجال اور اسے حواریوں کو شکستِ فاش دینی ہے۔ اسی پا

ﺍﯾﮏ ﺑﺎﺭ ﺟﺐ ﺟﺒﺮﺍﺋﯿﻞ ﻋﻠﯿﮧ ﺳﻼﻡ ﻧﺒﯽ ﮐﺮﯾﻢ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﺁﮮ ﺗﻮ ﻣﺤﻤﺪ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﻧﮯ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﮐﮧ ﺟﺒﺮﺍﯾﻞ ﮐﭽﮫ ﭘﺮﯾﺸﺎﻥ ﮨﮯ ﺁﭖ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ

ﺍﯾﮏ ﺑﺎﺭ ﺟﺐ ﺟﺒﺮﺍﺋﯿﻞ ﻋﻠﯿﮧ     
ﺳﻼﻡ ﻧﺒﯽ ﮐﺮﯾﻢ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﺁﮮ ﺗﻮ
ﻣﺤﻤﺪ ﺻﻠﯽ
ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﻧﮯ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﮐﮧ
ﺟﺒﺮﺍﯾﻞ ﮐﭽﮫ ﭘﺮﯾﺸﺎﻥ ﮨﮯ ﺁﭖ ﻧﮯ
ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ

ﺟﺒﺮﺍﺋﯿﻞ ﮐﯿﺎ ﻣﻌﺎﻣﻠﮧ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺁﺝ
ﻣﯿﮟ ﺁﭘﮑﻮ ﻏﻤﺰﺩﮦ ﺩﯾﮑﮫ ﺭﮨﺎ ﮨﻮ
ﮞ ﺟﺒﺮﺍﺋﯿﻞ ﻧﮯ
ﻋﺮﺽ ﮐﯽ ﺍﮮ ﻣﺤﺒﻮﺏ ﮐﻞ
ﺟﮩﺎﮞ ﺁﺝ ﻣﯿﮟ ﺍﻟﻠﮧ ﭘﺎﮎ ﮐﮯ
ﺣﮑﻢ ﺳﮯ ﺟﮩﻨﻢ ﮐﺎ
ﻧﻈﺎﺭﮦ ﮐﺮﮐﮧ ﺁﯾﺎ ﮨﻮﮞ ﺍﺳﮑﻮ
ﺩﯾﮑﮭﻨﮯ ﺳﮯ ﻣﺠﮫ ﭘﮧ ﻏﻢ ﮐﮯ
ﺁﺛﺎﺭ ﻧﻤﻮﺩﺍﺭ ﮨﻮﮮ
ﮨﯿﮟ ﻧﺒﯽ ﮐﺮﯾﻢ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ
ﺟﺒﺮﺍﺋﯿﻞ ﻣﺠﮭﮯ ﺑﮭﯽ ﺟﮩﻨﻢ
ﮐﮯ ﺣﺎﻻﺕ ﺑﺘﺎﻭ
ﺟﺒﺮﺍﺋﯿﻞ ﻧﮯ ﻋﺮﺽ ﮐﯽ ﺟﮩﻨﻢ
ﮐﮯ ﮐﻞ ﺳﺎﺕ ﺩﺭﺟﮯ ﮨﯿﮟ
ﺍﻥ ﻣﯿﮟ ﺟﻮ ﺳﺐ ﺳﮯ ﻧﯿﭽﮯ ﻭﺍﻻ
ﺩﺭﺟﮧ ﮨﮯ ﺍﻟﻠﮧ ﺍﺱ ﻣﯿﮟ
ﻣﻨﺎﻓﻘﻮﮞ ﮐﻮ
ﺭﮐﮭﮯ ﮔﺎ
ﺍﺱ ﺳﮯ ﺍﻭﭘﺮ ﻭﺍﻟﮯ ﭼﮭﭩﮯ
ﺩﺭﺟﮯ ﻣﯿﮟ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽ ﻣﺸﺮﮎ
ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﻮ ﮈﻟﯿﮟ
ﮔﮯ
ﺍﺱ ﺳﮯ ﺍﻭﭘﺮ ﭘﺎﻧﭽﻮﯾﮟ ﺩﺭﺟﮯ
ﻣﯿﮟ ﺍﻟﻠﮧ ﺳﻮﺭﺝ ﺍﻭﺭ ﭼﺎﻧﺪ ﮐﯽ
ﭘﺮﺳﺘﺶ ﮐﺮﻧﮯ
ﻭﺍﻟﻮﮞ ﮐﻮ ﮈﺍﻟﯿﮟ ﮔﮯ
ﭼﻮﺗﮭﮯ ﺩﺭﺟﮯ ﻣﯿﮟ ﺍﻟﻠﮧ ﭘﺎﮎ
ﺁﺗﺶ ﭘﺮﺳﺖ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﻮ ﮈﺍﻟﯿﮟ
ﮔﮯ
ﺗﯿﺴﺮﮮ ﺩﺭﺟﮯ ﻣﯿﮟ ﺍﻟﻠﮧ ﭘﺎﮎ
ﯾﮩﻮﺩ ﮐﻮ ﮈﺍﻟﯿﮟ ﮔﮯ
ﺩﻭﺳﺮﮮ ﺩﺭﺟﮯ ﻣﯿﮟ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽ
ﻋﺴﺎﺋﯿﻮﮞ ﮐﻮ ﮈﺍﻟﯿﮟ ﮔﺊ
ﯾﮧ ﮐﮩﮧ ﮐﺮ ﺟﺒﺮﺍﺋﯿﻞ ﻋﻠﯿﮧ ﺳﻼﻡ
ﺧﺎﻣﻮﺵ ﮨﻮﮔﺌﮯ ﺗﻮ ﻧﺒﯽ ﮐﺮﯾﻢ ﻧﮯ
ﭘﻮﭼﮭﺎ
ﺟﺒﺮﺍﺋﯿﻞ ﺁﭖ ﺧﺎﻣﻮﺵ ﮐﯿﻮﮞ
ﮨﻮﮔﺌﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﺑﺘﺎﻭ ﮐﮧ ﭘﮩﻠﮯ
ﺩﺭﺟﮯ ﻣﯿﮟ ﮐﻮﻥ
ﮨﻮﮔﺎ
ﺟﺒﺮﺍﺋﯿﻞ ﻋﻠﯿﮧ ﺳﻼﻡ ﻧﮯ ﻋﺮﺽ
ﮐﯿﺎ
ﯾﺎ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﮯ ﺭﺳﻮﻝ ﭘﮩﻠﮯ ﺩﺭﺟﮯ
ﻣﯿﮟ ﺍﻟﻠﮧ ﭘﺎﮎ ﺁﭘﮑﮯ ﺍﻣﺖ ﮐﮯ
ﮔﻨﮩﮕﺎﺭﻭﮞ ﮐﻮ
ﮈﺍﻟﮯ ﮔﮯ
ﺟﺐ ﻧﺒﯽ ﮐﺮﯾﻢ ﻧﮯ ﯾﮧ ﺳﻨﺎ ﮐﮧ
ﻣﯿﺮﯼ ﺍﻣﺖ ﮐﻮ ﺑﮭﯽ ﺟﮩﻨﻢ ﻣﯿﮟ
ﮈﺍﻻ ﺟﺎﮮ
ﮔﺎ ﺗﻮ ﺁﭖ ﺑﮯ ﺣﺪ ﻏﻤﮕﯿﻦ ﮨﻮﮮ
ﺍﻭﺭ ﺁﭖ ﻧﮯ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﮯ ﺣﻀﻮﺭ
ﺩﻋﺎﺋﯿﮟ ﮐﺮﻧﺎ
ﺷﺮﻭﻉ ﮐﯽ ﺗﯿﻦ ﺩﻥ ﺍﯾﺴﮯ ﮔﺰﺭﮮ
ﮐﮧ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﮯ ﻣﺤﺒﻮﺏ ﻣﺴﺠﺪ ﻣﯿﮟ
ﻧﻤﺎﺯ
ﭘﮍﮬﻨﮯ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺗﺸﺮﯾﻒ ﻻﺗﮯ
ﻧﻤﺎﺯ ﭘﮍﮪ ﮐﺮ ﺣﺠﺮﮮ ﻣﯿﮟ
ﺗﺸﺮﯾﻒ ﻟﮯ ﺟﺎﺗﮯ
ﺍﻭﺭ ﺩﺭﻭﺍﺯﮦ ﺑﻨﺪ ﮐﺮﮐﮧ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﮯ
ﺣﻀﻮﺭ ﺭﻭ ﺭﻭ ﮐﺮ ﻓﺮﯾﺎﺩ ﮐﺮﺗﮯ
ﺻﺤﺎﺑﮧ ﺣﯿﺮﺍﻥ
ﺗﮭﮯ ﮐﮧ ﻧﺒﯽ ﮐﺮﯾﻢ ﭘﮧ ﯾﮧ ﮐﯿﺴﯽ
ﮐﯿﻔﯿﺖ ﻃﺎﺭﯼ ﮨﻮﺋﯽ ﮨﮯ ﻣﺴﺠﺪ
ﺳﮯ
ﺣﺠﺮﮮ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ
ﮔﮭﺮ ﺑﮭﯽ ﺗﺸﺮﯾﻒ ﻟﯿﮑﺮ ﻧﮩﯿﮟ
ﺟﺎ ﺭﮨﮯ۔ ﺟﺐ ﺗﯿﺴﺮﺍ ﺩﻥ ﮨﻮﺍ ﺗﻮ
ﺳﯿﺪﻧﺎ ﺍﺑﻮ ﺑﮑﺮ
ﺳﮯ ﺭﮨﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﮔﯿﺎ ﻭﮦ ﺩﺭﻭﺍﺯﮮ ﭘﮧ
ﺁﮮ ﺩﺳﺘﮏ ﺩﯼ ﺍﻭﺭ ﺳﻼﻡ ﮐﯿﺎ
ﻟﯿﮑﻦ ﺳﻼﻡ
ﮐﺎ ﺟﻮﺍﺏ ﻧﮩﯿﮟ ﺁﯾﺎ ۔ ﺁﭖ ﺭﻭﺗﮯ
ﮨﻮﮮ ﺳﯿﺪﻧﺎ ﻋﻤﺮ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﺁﮮ
ﺍﻭﺭ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ
ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺳﻼﻡ ﮐﯿﺎ ﻟﯿﮑﻦ
ﺳﻼﻡ ﮐﺎ ﺟﻮﺍﺏ ﻧﮧ ﭘﺎﯾﺎ ﻟﮩﺬﺍ ﺁﭖ
ﺟﺎﺋﯿﮟ ﺁﭖ ﮐﻮ
ﮨﻮﺳﮑﺘﺎ ﮨﮯ ﺳﻼﻡ ﮐﺎ ﺟﻮﺍﺏ ﻣﻞ
ﺟﺎﮮ ﺁﭖ ﮔﺌﮯ ﺗﻮ ﺁﭖ ﻧﮯ ﺗﯿﻦ ﺑﺎﺭ
ﺳﻼﻡ ﮐﯿﺎ
ﻟﯿﮑﻦ ﺟﻮﺍﺏ ﻧﮧ ﺁﯾﺎ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻤﺮ
ﻧﮯ ﺳﻠﻤﺎﻥ ﻓﺎﺭﺳﯽ ﮐﻮ ﺑﮭﯿﺠﺎ
ﻟﯿﮑﻦ ﭘﮭﺮ
ﺑﮭﯽ ﺳﻼﻡ ﮐﺎ ﺟﻮﺍﺏ ﻧﮧ ﺁﯾﺎ
ﺣﻀﺮﺕ ﺳﻠﻤﺎﻥ ﻓﺎﺭﺳﯽ ﻧﮯ
ﻭﺍﻗﻌﮯ ﮐﺎ ﺗﺬﮐﺮﮦ
ﻋﻠﯽ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽ ﺳﮯ ﮐﯿﺎ
ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺳﻮﭼﺎ ﮐﮧ ﺟﺐ ﺍﺗﻨﮯ
ﺍﻋﻈﯿﻢ
ﺷﺤﺼﯿﺎﺕ ﮐﻮ ﺳﻼﻡ ﮐﺎ ﺟﻮﺍﺏ ﻧﮧ
ﻣﻼ ﺗﻮ ﻣﺠﮭﮯ ﺑﮭﯽ ﺧﻮﺩ ﻧﮭﯽ
ﺟﺎﻧﺎ ﻧﮭﯽ
ﭼﺎﮬﯿﺌﮯ
ﺑﻠﮑﮧ ﻣﺠﮭﮯ ﺍﻧﮑﯽ ﻧﻮﺭ ﻧﻈﺮ
ﺑﯿﭩﯽ ﻓﺎﻃﻤﮧ ﺍﻧﺪﺭ ﺑﮭﯿﺠﻨﯽ
ﭼﺎﮬﯿﺌﮯ۔ ﻟﮩﺬﺍ ﺁﭖ
ﻧﮯ ﻓﺎﻃﻤﮧ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽ ﮐﻮ
ﺳﺐ ﺍﺣﻮﺍﻝ ﺑﺘﺎ ﺩﯾﺎ ﺁﭖ ﺣﺠﺮﮮ
ﮐﮯ ﺩﺭﻭﺍﺯﮮ
ﭘﮧ ﺁﺋﯽ
" ﺍﺑﺎ ﺟﺎﻥ ﺍﺳﻼﻡ ﻭﻋﻠﯿﮑﻢ"
ﺑﯿﭩﯽ ﮐﯽ ﺁﻭﺍﺯ ﺳﻦ ﮐﺮ ﻣﺤﺒﻮﺏ
ﮐﺎﺋﯿﻨﺎﺕ ﺍﭨﮭﮯ ﺩﺭﻭﺍﺯﮦ ﮐﮭﻮﻻ ﺍﻭﺭ
ﺳﻼﻡ ﮐﺎ
ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺎ
ﺍﺑﺎ ﺟﺎﻥ ﺁﭖ ﭘﺮ ﮐﯿﺎ ﮐﯿﻔﯿﺖ ﮬﮯ ﮐﮧ
ﺗﯿﻦ ﺩﻥ ﺳﮯ ﺁﭖ ﯾﮩﺎﮞ ﺗﺸﺮﯾﻒ
ﻓﺮﻣﺎ ﮨﮯ
ﻧﺒﯽ ﮐﺮﯾﻢ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﮐﮧ ﺟﺒﺮﺍﺋﯿﻞ
ﻧﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﺁﮔﺎﮦ ﮐﯿﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻣﯿﺮﯼ
ﺍﻣﺖ
ﺑﮭﯽ ﺟﮩﻨﻢ ﻣﯿﮟ ﺟﺎﮮ ﮔﯽ
ﻓﺎﻃﻤﮧ ﺑﯿﭩﯽ ﻣﺠﮭﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺍﻣﺖ
ﮐﮯ
ﮔﻨﮩﮕﺎﺭﻭﮞ ﮐﺎ ﻏﻢ ﮐﮭﺎﮮ ﺟﺎ ﺭﮨﺎ
ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﮯ ﻣﺎﻟﮏ ﺳﮯ
ﺩﻋﺎﺋﯿﮟ ﮐﺮﺭﮨﺎ
ﮨﻮﮞ ﮐﮧ ﺍﻟﻠﮧ ﺍﻧﮑﻮ ﻣﻌﺎ ﻑ ﮐﺮ ﺍﻭﺭ
ﺟﮩﻨﻢ ﺳﮯ ﺑﺮﯼ ﮐﺮ ﯾﮧ ﮐﮩﮧ ﮐﺮ
ﺁﭖ ﭘﮭﺮ
ﺳﺠﺪﮮ ﻣﯿﮟ ﭼﻠﮯ ﮔﺌﮯ ﺍﻭﺭ ﺭﻭﻧﺎ
ﺷﺮﻭﻉ ﮐﯿﺎ ﯾﺎ ﺍﻟﻠﮧ ﻣﯿﺮﯼ ﺍﻣﺖ ﯾﺎ
ﺍﻟﻠﮧ
ﻣﯿﺮﯼ ﺍﻣﺖ ﮐﮯ ﮔﻨﺎﮨﮕﺎﺭﻭﮞ ﭘﮧ
ﺭﺣﻢ ﮐﺮ ﺍﻧﮑﻮ ﺟﮩﻨﻢ ﺳﮯ ﺁﺯﺍﺩ
ﮐﺮ
ﮐﮧ ﺍﺗﻨﮯ ﻣﯿﮟ ﺣﮑﻢ ﺁﮔﯿﺎ "
ﻭَﻟَﺴَﻮْﻑَ ﻳُﻌْﻄِﻴﻚَ ﺭَﺑُّﻚَ ﻓَﺘَﺮْﺿَﻰ
ﺍﮮ ﻣﯿﺮﮮ ﻣﺤﺒﻮﺏ ﻏﻢ ﻧﮧ ﮐﺮ
ﻣﯿﮟ ﺗﻢ ﮐﻮ ﺍﺗﻨﺎ ﻋﻄﺎ ﮐﺮﺩﻭﮞ ﮔﺎ
ﮐﮧ ﺁﭖ ﺭﺍﺿﯽ
ﮨﻮﺟﺎﻭ ﮔﮯ
ﺁﭖ ﺧﻮﺷﯽ ﺳﮯ ﮐﮭﻞ ﺍﭨﮭﮯ ﺍﻭﺭ
ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﺍﻟﻠﮧ ﻧﮯ ﻣﺠﮫ ﺳﮯ
ﻭﻋﺪﮦ
ﮐﺮﻟﯿﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻭﮦ ﺭﻭﺯ ﻗﯿﺎﻣﺖ
ﻣﺠﮭﮯ ﻣﯿﺮﯼ ﺍﻣﺖ ﮐﮯ ﻣﻌﺎﻣﻠﮯ
ﻣﯿﮟ ﺧﻮﺏ
ﺭﺍﺿﯽ ﮐﺮﯾﮟ ﮔﺎ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﺱ
ﻭﻗﺖ ﺗﮏ ﺭﺍﺿﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﻧﺎ ﺟﺐ
ﺗﮏ ﻣﯿﺮﺍ
ﺁﺧﺮﯼ ﺍﻣﺘﯽ ﺑﮭﯽ ﺟﻨﺖ ﻣﯿﮟ ﻧﮧ
ﭼﻼ ﺟﺎﮮ
ﻟﮑﮭﺘﮯ ﮨﻮﮮ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﺳﮯ ﺁﻧﺴﻮ
ﺁﮔﺌﮯ ﮐﮧ ﮨﻤﺎﺭﺍ ﻧﺒﯽ ﺍﺗﻨﺎ ﺷﻔﯿﻖ
ﺍﻭﺭ ﻏﻢ
ﻣﺤﺴﻮﺱ ﮐﺮﻧﮯ ﻭﺍﻻ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ
ﺑﺪﻟﮯ ﻣﯿﮟ ﮨﻢ ﻧﮯ ﺍﻧﮑﻮ ﮐﯿﺎ ﺩﯾﺎ ؟
ﺁﭘﮑﺎ ﺍﯾﮏ
ﺳﯿﮑﻨﮉ ﺍﺱ ﺗﺤﺮﯾﺮ ﮐﻮ ﺩﻭﺳﺮﮮ
ﻟﻮﮔﻮﮞ ﺗﮏ ﭘﮩﻨﭽﺎﻧﮯ ﮐﺎ ﺯﺭﯾﻌﮧ
ﮨﮯ ﻣﯿﺮﯼ ﺁﭖ
ﺳﮯ ﻋﺎﺟﺰﺍﻧﮧ ﺍﭘﯿﻞ ﮨﮯ ﮐﮧ
ﻻﺣﺎﺻﻞ ﺍﻭﺭ ﺑﮯ ﻣﻘﺼﺪ ﭘﻮﺳﭩﺲ
ﮨﻢ ﺳﺐ ﺷﯿﺌﺮ
ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ . ﺁﺝ ﺍﭘﻨﮯ ﻧﺒﯽ ﮐﯽ
ﺭﺣﻤﺖ ﮐﺎ ﯾﮧ ﭘﮩﻠﻮ ﮐﯿﻮﮞ ﻧﮧ ﺷﯿﺌﺮ
ﮐﺮﯾﮟ .


Friday, 28 September 2018

Prime Ministers Of Pakistan All Detail

1. Liaquat Ali Khan (1896 – 1951)



In Office: 14 August 1947 – 16 October 1951

Status: Elected democratically

Political Party: Muslim League

Total Duration: 4 Years, 2 Months, 2 Days



2. Sir Khawaja Nazimuddin (1894 – 1964)



In Office: 17 October 1951 – 17 April 1953

Status: Elected democratically

Political Party: Muslim League

Total Duration: 2 Years exactly



3. Muhammad Ali Bogra (1909 – 1963)



In Office: 17 April 1953 – 12 August 1955

Status: Elected democratically

Political Party: Muslim League

Total Duration: 2 Years, 2 Months, 26 Days



4. Chaudhry Muhammad Ali (1905 – 1980)



In Office: 12 August 1955 – 12 September 1956

Status: Elected democratically

Political Party: Muslim League

Total Duration: 1 Year, 1 Month exactly



5. Huseyn Shaheed Suhrawardy (1892 – 1963)



In Office: 12 September 1956 – 17 October 1957

Status: Elected democractically

Political Party: Awami League

Total Duration: 1 Year, 1 Month, 5 Days



6. Ibrahim Ismail Chundrigar (1898 – 1968)



In Office: 17 October 1957 – 16 December 1957

Status: Elected democratically

Political Party: Muslim League

Total Duration: 1 Month, 29 Days



7. Sir Feroz Khan Noon (1893 – 1970)



In Office: 16 December 1957 – 7 October 1958

Status: Elected democratically

Political Party: Republican Party

Total Duration: 9 Months, 21 Days



Post Abolished: 7 October 1958 – 7 December 1971

Total Duration of Abolishment: 13 Years, 2 Months exactly



8. Nurul Amin (1893 – 1974)



In Office: 7 December 1971 – 20 December 1971

Status: Elected democratically

Political Party: Pakistan Muslim League

Total Duration: 13 Days Only



Post Abolished: 20 December 1971 – 14 August 1973

Total Duration of Abolishment: 1 Year, 7 Months, 25 Days



9. Zulfikar Ali Bhutto (1928 – 1979)



In Office: 14 August 1973 – 5 July 1977

Status: Elected democratically

Political Party: Pakistan Peoples Party

Total Duration: 3 Years, 10 Months, 21 Days



Post Abolished: 5 July 1977 – 24 March 1985

Total Duration of Abolishment: 7 Years, 8 Months, 19 Days



10. Muhammad Khan Junejo (1932 – 1993)



In Office: 24 March 1985 – 29 May 1988

Status: Elected democratically

Political Party: Independent; Pakistan Muslim League

Total Duration: 3 Years, 2 Months, 5 Days



Post Abolished: 29 May 1988 – 2 December 1988

Total Duration of Abolishment: 6 Months, 3 Days



11. Benazir Bhutto (1953 – 2007)



In Office: 2 December 1988 – 6 August 1990

Status: Elected democratically

Political Party: Pakistan Peoples Party

Total Duration: 1 Year, 8 Months, 4 Days



Ghulam Mustafa Jatoi (1931 – 2009)


In Office: 6 August 1990 – 6 November 1990

Status: Caretaker/Acting

Political Party: None

Total Duration: 3 Months exactly



12. Nawaz Sharif (Born 1949)



In Office: 6 November 1990 – 18 April 1993

Status: Elected democratically

Political Party: Pakistan Muslim League (N), Islami Jamhoori Ittehad *changed later

Total Duration: 2 Years, 5 Months, 12 Days



Balakh Sher Mazari (Born 1928)


In Office: 18 April 1993 – 26 May 1993

Status: Caretaker/Acting

Political Party: None

Total Duration: 1 Month, 8 Days



Nawaz’s Second Term:

In Office: 26 May 1993 – 18 July 1993

Status: Elected democratically

Political Party: Pakistan Muslim League (N)

Total Duration: 1 Month, 22 Days



Moeenuddin Ahmad Qureshi (Born 1930)


In Office: 18 July 1993 – 19 October 1993

Status: Caretaker/Acting

Political Party: None

Total Duration: 3 Months, 1 Day exactly



13. Benazir’s Second Term:

In Office: 19 October 1993 – 5 November 1996

Status: Elected democratically

Political Party: Pakistan Peoples Party

Total Duration: 3 Years, 17 Days



Malik Meraj Khalid (1916 – 2003)


In Office: 5 November 1996 – 17 February 1997

Status: Caretaker/Acting

Political Party: None

Total Duration: 3 Months, 12 Days



14. Nawaz’s Third Term:

In Office: 17 February 1997 – 12 October 1999

Status: Elected democratically

Political Party: Pakistan Muslim League (N)

Total Duration: 2 Years, 7 Months, 23 Days



Post Abolished: 12 October 1999 – 20 November 2002

Total Duration of Abolishment: 3 Years, 1 Month, 8 Days



15. Zafarullah Khan Jamali (Born 1944)



In Office: 21 November 2002 – 26 June 2004

Status: Acting/Appointed by the President

Political Party: Pakistan Muslim League (Q)

Total Duration: 1 Year, 7 Months, 5 Days



16. Chaudhry Shujaat Hussain (Born 1946)



In Office: 30 June 2004 – 20 August 2004

Status: Elected democratically

Political Party: Pakistan Muslim League (Q)

Total Duration: 1 Month, 21 Days



17. Shaukat Aziz (Born 1949)



In Office: 20 August 2004 – 16 November 2007

Status: Elected democratically

Political Party: Pakistan Muslim League (Q)

Total Duration: 3 Years, 2 Months, 27 Days



Muhammad Mian Soomro (Born 1950)


In Office: 16 November 2007 – 25 March 2008

Status: Caretaker/Acting

Political Party: Pakistan Muslim League (Q)

Total Duration: 4 Months, 9 Days



18. Yousaf Raza Gillani (Born 1952)



In Office: 25 March 2008 – 19 June 2012

Status: Elected democratically

Political Party: Pakistan Peoples Party

Total Duration: 4 Years, 2 Months, 25 Days



19. Raja Pervaiz Ashraf (1950)

Raja Pervaiz Ashraf
Raja Pervaiz Ashraf














In Office: 22 June 2012 – 25 March 2013

Status: Assumed Prime Minister’s role when his predecessor, Yousuf Raza Gilani was disqualified by the Supreme Court of Pakistan on contempt of court charges.

Political Party: Pakistan People’s Party

Total Duration: 9 Months, 3 Days



Mir Hazar Khan Khoso (1929)
Mir Hazar Khan Khoso
Mir Hazar Khan Khoso














In Office: 25 March 2013 – 4 June 2013

Status: Caretaker Prime Minister.

Political Party: Independent

Total Duration: 2 Months, 10 Days



20. Mian Muhammad Nazwaz Sharif (1949)

Mian Nawaz Sharif
Mian Nawaz Sharif














In Office: 5 June 2013 – 28 July 2017

Status: Elected Prime Minister.

Political Party: Muslim League (N)

Total Duration: 4 years, 1 month, 23 days



21. Shahid Khaqan Abbasi (1958)



In Office: 1 August 2017 – 31 May 2018

Status: Caretaker Prime Minister.

Political Party: Muslim League (N)

Total Duration: Parliament elected as the PM and to serve a 50-day period.



Nasirul Mulk (1950)


In Office: 1 June 2018 – 18 August 2018

Status: Caretaker/Acting

Political Party: None
Total Duration: 2 Months, 18 Days
22. Imran Khan (1952)
In Office: 18 August 2018 – continued
Status: Elected Prime Minister
Political Party: Pakistan Tehreek-e-Insaf

Sunday, 23 September 2018

حضرت لقمان کسی رئیس کے غلام تھے ، اور اسکی بہت خدمت کیا کرتے تھے ، یہ رئیس ان کی خدمت گزاری ، دانائی اور

حضرت لقمان کسی رئیس کے غلام تھے ، اور اسکی بہت خدمت کیا کرتے تھے ، یہ رئیس ان کی خدمت گزاری ، دانائی اور
ایمانداری سے بہت متاثر تھا انکو بہت عزت دیتا اور بہت محبت کرتا تھا ، تاجر کا معمول تھا کہ جب بھی دستر خوان پر بیٹھتا تو حضرت لقمان کو بھی اپنے ساتھ بٹھاتا اور اپنے ہاتھ سے کھانا پیش کرتا ، ایک دن رئیس نے کہیں سے خربوزہ منگوایا اور اپنے ہاتھ سے ایک قاش کاٹ کر حضرت کو پیش کی ، حضرت نے وہ قاش کھائ
ی تو رئیس نے پوچھا کہ کیسا ہے ، حضرت نے جواب دیا کہ الحمدللہ بہت اچھا ہے ۔ آپکی دی ہوئی چیز پھیکی کیسے ہو سکتی ، رئیس بہت خوش ہوا اور ایک قاش اور کاٹ کر آپ کی خدمت میں پیش کی، آپ نے وہ بھی نوش فرما لی ، اسی طرح رئیس قاشیں کاٹتا رہا اور آپ کو پیش کرتا رہا اور آپ کھاتے رہے اور تعریف کرتے رہے ، جب آخری قاش بچی تو رئیس کے دل میں آیا کہ اتنا میٹھا خربوزہ مجھے بھی چکھنا چاہیے جیسے ہی اس نے قاش منہ میں رکھی فورا" تھوک دی ، خربوزہ تو انتہائی کڑوا تھا ،
رئیس بڑا حیران ہو ا اور اس نے حضرت لقمان سے پوچھا کہ حیرت ہے آپ اتنا کڑوا خربوزہ میٹھا کہہ کر کھاتے رہے ، کیا وجہ تھی کہ تم نے مجھے بتایا نہیں ، حضرت لقمان نے سر جھکا لیا اور آہستہ آواز میں بولے آقا میں نے آپ کے ہاتھوں سے دنیا کی شاندار نعمتیں کھائی ہیں یہ پہلی نعمت تھی جو ذرا سی کڑوی تھی ، میری غیرت نے گوارہ نہیں کیا کہ ایک ایسے شخص سے شکایت کروں جس نے ہمیشہ مجھے پہلے کھلایا اور بہت اچھا کھلایا ۔ آقا میں آپ کے مہربان ہاتھوں سے زہر تک کھا سکتا ہوں تو یہ کڑوا خربوزہ کیا چیز ہے ، یہ سن کر رئیس کی آنکھوں میں آنسو آگئے
مجھے بھی یہ واقعہ سوچ کر رونا آ جاتا ہے کہ ہم ذرا سی تکلیف پر اللہ سے شکوہ کر دیتے ہیں کہ میرے ساتھ ہی ایسا کیوں ہوتا ہے ، کبھی یہ نہیں سوچا کہ اس مالک کی ہزار ہا نعمتیں استعمال کر رہے ہیں ، ہوا ، پانی ، روشنی ، پھل ، غذا اور ان کے علاوہ کتنی نعمتیں ہیں جو مسلسل استعمال کرتے ہیں لیکن جب کبھی ذرا سی تکلیف آجائے ، مشقت آ جائے ، بیماری آجائے ، کوئی محرومی آجائے تو فورا" شکوہ کر دیتے ہیں کہ میرے ساتھ ہی ایسا کیوں ہوتا ہے ، غیرت کا تقاضہ تو یہی ہے نا کہ جس مالک کی اتنی نعمتیں استعمال کرتے ہیں اس کی طرف سے آنے والی تھوڑی سی مصیبت میں بھی ناشکری مت کریں اور ہر حال میں اس کا شکر ادا کریں

Pakistan affairs

Pakistan affairs. • Steel Mill is in Bin Qasim • Old name of Jacobabad is Khangharh. • Kot Digi Fort is in Khairpur district. • Pesh...